تجزیہ راجہ اشفاق
پنجاب میں حکمرانی اور ترقی کے روایتی انداز کو تبدیل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو صوبے کے ترقیاتی سفر کا ایک اہم ستون بنانے کی جو حکمت عملی اختیار کی ہے، وہ محض چند منصوبوں کی نجی شعبے کو منتقلی نہیں بلکہ صوبائی معیشت، انفراسٹرکچر، شہری سہولتوں اور انتظامی کارکردگی کے ایک نئے ماڈل کی تشکیل کی طرف اہم پیش رفت ہے۔ پانچ بڑی شاہراہوں کے 318 کلومیٹر طویل نیٹ ورک کو نجی شعبے کے انتظام و آپریشن میں دینے، حکومت کے لیے 22 ارب روپے متوقع ریونیو حاصل کرنے، جدید ٹولنگ نظام متعارف کرانے اور سڑکوں کی دیکھ بھال و بحالی کی ذمہ داری نجی شعبے کو سونپنے کا فیصلہ اس امر کا عکاس ہے کہ پنجاب حکومت اب ترقیاتی منصوبوں کو صرف سرکاری خزانے پر انحصار کرتے ہوئے چلانے کے بجائے دستیاب وسائل، نجی سرمایہ کاری، جدید انتظامی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کارکردگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کے ترقیاتی وڑن میں منصوبوں کی تعداد سے زیادہ ان کے عملی نتائج، انتظامی رفتار اور عوامی افادیت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شعبے میں سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت اسی سوچ کی عملی تصویر ہے۔ مریدکے، نارووال، شکرگڑھ، فیصل آباد اور دیگر اہم علاقوں کو باہم ملانے والی شاہراہوں کی نجی شعبے کے ذریعے مینجمنٹ نہ صرف سڑکوں کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہے بلکہ اس کے ذریعے حکومت کو ایسے وسائل بھی میسر آسکتے ہیں جنہیں مزید عوامی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکے۔ یوں ایک منصوبے سے حاصل ہونے والی معاشی افادیت کو دوسرے شعبوں کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
مریدکے نارووال روڈ کے 80 کلومیٹر، شکرگڑھ نارووال روڈ کے 33 کلومیٹر، فیصل آباد رنگ روڈ کے 97 کلومیٹر، فیصل آباد سہیہانوالہ روڈ کے 52 کلومیٹر اور فیصل آباد سمندری راجانہ روڈ کے 56 کلومیٹر حصے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لانا اس منصوبہ بندی کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ مجموعی طور پر 318 کلومیٹر شاہراہوں کا یہ نیٹ ورک پنجاب کے مختلف اہم شہروں اور تجارتی مراکز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں، زرعی پیداوار کی نقل و حرکت اور صنعتی ترسیل کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ بہتر سڑکیں صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ معیشت کی رفتار، سرمایہ کاری کے رجحان اور روزگار کے مواقع سے براہ راست جڑی ہوتی ہیں۔
اس منصوبے کا اہم پہلو جدید الیکٹرانک ٹول پلازوں کا قیام ہے۔ نجی کمپنی سات سال تک ٹول وصول کرے گی اور شاہراہوں کی مرمت، دیکھ بھال، تعمیر اور بحالی کی ذمہ داری بھی اسی کے پاس ہوگی۔ اس طریقہ کار سے حکومت کو ایک طرف مسلسل نگرانی اور انتظامی اخراجات کے بوجھ میں کمی کا موقع مل سکتا ہے تو دوسری طرف نجی شعبے کو اس بات کا پابند بنایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے معاہدے کے تحت شاہراہوں کو بہتر حالت میں برقرار رکھے۔ تجزیہ بی این پی کے مطابق اس ماڈل کی اصل کامیابی صرف ٹول وصولی میں نہیں بلکہ اس امر میں ہوگی کہ عوام کو بہتر، محفوظ اور معیاری سفری سہولت ملے اور معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
مریم نواز شریف کی حکومت کی انتظامی سوچ کا ایک اور قابل ذکر پہلو منصوبوں کی منظوری اور تیاری کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کم کرنا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کی کارروائی جو پہلے طویل عرصے تک جاری رہتی تھی، اسے تقریباً چھ ماہ تک محدود کرنے کی کوشش انتظامی اصلاحات کی اہم مثال ہے۔ ترقیاتی منصوبے اس وقت تک عوام کے لیے فائدہ مند نہیں بنتے جب تک فائلیں دفاتر میں گردش کرتی رہیں۔ فیصلہ سازی میں رفتار، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور سرمایہ کاروں کو واضح طریقہ کار فراہم کرنا جدید طرز حکمرانی کی بنیادی ضرورت ہے۔ پنجاب حکومت نے اس شعبے میں جو رفتار دکھائی ہے، وہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے انتظامی وژن کی ایک نمایاں علامت قرار دی جا سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو صرف سڑکوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس کے دائرہ کار کو پانی، صفائی، ماحولیات، سیاحت، کھیل، تعلیم، صحت، پارکنگ، ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر شہری خدمات تک وسیع کیا جا رہا ہے۔ بہاولپور یزمان، یزمان احمدپور شرقیہ، رائیونڈ چنگا مانگا اور گجومتہ قصور سمیت مزید شاہراہوں کو اس نظام میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی صوبے کے مختلف علاقوں میں بہتر رابطہ کاری کے امکانات پیدا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ چکوال اور قصور میں پانی اور صفائی کی خدمات کے منصوبے بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نجی شعبے کی مہارت کو صرف بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں کی ضروریات میں نمایاں فرق ہے، اس لیے ترقیاتی پالیسی بھی ایسی ہونی چاہیے جو مختلف علاقوں کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی جائے۔ مریم نواز شریف کی حکومت کی پالیسی میں اس پہلو کو بھی نمایاں اہمیت حاصل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ سیاحت کے شعبے میں ٹائم ٹریول پارک کا منصوبہ، ساہیوال میں فریدیہ پارک کی ترقی و انتظام، جدید ٹرک ٹرمینل، بادامی باغ لاری اڈہ میں پارکنگ پلازہ اور کثیرالمقاصد تجارتی سہولت جیسے منصوبے شہری معیشت کے مختلف پہلوؤں کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح دریائے ستلج پر ساہوکا پتن پل جیسے منصوبے علاقائی رابطوں اور عوامی آمدورفت میں بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تعلیم اور صحت کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا استعمال بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اور دیگر سرکاری جامعات میں طلبہ و طالبات کے ہاسٹلز، میڈیکل کالجز میں ہاسٹل سہولیات، صوبے بھر میں ورکنگ ویمن کے لیے ہاسٹلز اور ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں نرسنگ ہاسٹل جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترقی کا تصور صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔ اگر ایسے منصوبوں میں معیار، شفافیت، مناسب نرخ اور عوامی مفاد کو بنیادی شرط بنایا جائے تو نجی شعبے کی انتظامی صلاحیت کو عوامی سہولتوں کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کھیلوں کے میدانوں اور دیگر عوامی سہولتوں کا انتظام نجی شعبے کے ذریعے بہتر بنانے کی تجویز بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پنجاب میں 100 کھیلوں کے میدانوں اور دیگر سہولتوں کے انتظام و ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا استعمال نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کے مواقع بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح صنعتی علاقوں میں فضلے کے پانی کی صفائی کے پلانٹس، ویسٹ ٹو انرجی منصوبے اور پھل و سبزی منڈیوں کے ٹھوس فضلے کے انتظام کے لیے بلیک سولجر فلائی لاروا پلانٹ جیسے منصوبے ماحولیاتی مسائل کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی قرار دیے جا سکتے ہیں۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز سے تحفظ کے لیے پنجاب میں پہلے ویکسین پروٹیکشن پلانٹ کا قیام بھی اس حکمت عملی کے وسیع دائرے کو ظاہر کرتا ہے۔ زرعی اور مویشی پال معیشت پنجاب کی بنیادی معاشی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے بیماریوں سے تحفظ، پیداوار میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال براہ راست کسان اور دیہی معیشت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو محض شہری ترقی کا ذریعہ بنانے کے بجائے صوبے کی مجموعی معاشی ساخت سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کارکردگی کا اصل امتیاز منصوبوں کے اعلان سے زیادہ ان کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے میں نظر آتا ہے۔ پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت منصوبوں کو منظم کرنا، متعلقہ محکموں کو ایک مربوط نظام میں لانا اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو تیز کرنا انتظامی اصلاحات کی سمت اہم قدم ہے۔ ڈویڑنل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ورکنگ پارٹی کو پانچ کروڑ روپے تک کے منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد کا اختیار دینا بھی اسی سوچ کا حصہ ہے۔ اگر فیصلے مقامی سطح پر بروقت ہوں تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے عوامی منصوبوں کے لیے غیر ضروری مرکزی منظوریوں کا انتظار کم کیا جا سکتا ہے۔
یہاں مریم نواز شریف کی قیادت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ صوبائی حکومت کو محض اخراجات کرنے والا ادارہ بنانے کے بجائے وسائل پیدا کرنے اور نجی سرمایہ کو ترقیاتی عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 22 ارب روپے کے متوقع ریونیو کا ہدف اسی پالیسی کا ایک عملی پہلو ہے۔ اگر یہ ماڈل شفاف مسابقت، مضبوط نگرانی، آزادانہ آڈٹ اور معاہدوں کی سخت پابندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی مالی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔تاہم کسی بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ عوامی مفاد ہونا چاہیے۔ ٹول کی شرح مناسب ہو، شہریوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے، سڑکوں کی حالت معاہدے کے معیار کے مطابق برقرار رکھی جائے، نجی کمپنیوں کا انتخاب شفاف مسابقتی عمل کے ذریعے ہو اور حکومت معاہدوں کی مؤثر نگرانی کرے، تو اس نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ مریم نواز شریف کی حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ہر منصوبے میں شفافیت، جواب دہی اور عوامی سہولت کو بنیادی ترجیح برقرار رکھے۔
مریم نواز شریف کے موجودہ ترقیاتی وڑن کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پنجاب میں ترقی کا تصور ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ سڑکوں سے لے کر پانی، صفائی، سیاحت، تعلیم، صحت، کھیل، ماحولیات، ویسٹ مینجمنٹ اور شہری سہولتوں تک مختلف شعبوں کو نجی سرمایہ کاری اور جدید انتظامی صلاحیت سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت اپنے محدود وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے نجی شعبے کے مالی اور انتظامی وسائل کو بھی صوبے کی ترقی کے لیے بروئے کار لانے کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔
بطور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کارکردگی کا یہ پہلو ان کے وسیع تر انتظامی وڑن کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف وہ عوامی سہولتوں کے براہ راست منصوبوں پر توجہ دے رہی ہیں اور دوسری طرف ایسے ادارہ جاتی نظام تشکیل دینے کی کوشش بھی کر رہی ہیں جو مستقبل میں حکومت پر مالی اور انتظامی دباؤ کم کر سکیں۔ یہی طرز حکمرانی کسی بھی صوبے کو محض منصوبوں کے اعلانات سے آگے لے جا کر پائیدار ترقی کے راستے پر ڈال سکتا ہے۔
پنجاب کی آبادی، معاشی حجم اور شہری پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ہر شعبے کی ہر ضرورت صرف سرکاری وسائل سے پوری کرے۔ دنیا بھر میں حکومتیں نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے شہری خدمات کو بہتر بنا رہی ہیں۔ پنجاب میں اس ماڈل کو منظم انداز میں آگے بڑھانا مریم نواز شریف کی حکومت کی ایک ایسی پالیسی ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پنجاب میں محض ترقیاتی منصوبوں کی نئی فہرست نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک نئے تصور کی بنیاد بن سکتی ہے، جس میں حکومت سمت متعین کرے، نجی شعبہ سرمایہ اور انتظامی مہارت فراہم کرے، ادارے نگرانی اور جواب دہی یقینی بنائیں اور سب سے بڑھ کر عام شہری کو بہتر سہولت ملے۔ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت اگر اسی رفتار کے ساتھ شفافیت، معیار اور عوامی مفاد کو ساتھ لے کر آگے بڑھتی رہی تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ واقعی صوبے کی ترقی میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جو مریم نواز شریف کی بطور وزیراعلیٰ کارکردگی کو محض منصوبوں کی تکمیل سے آگے لے جا کر ایک ایسے انتظامی وڑن سے جوڑتا ہے جس میں پنجاب کے موجودہ مسائل کے ساتھ مستقبل کی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Prev Post
شاید آپ یہ بھی پسند کریں