Dailyitlaeaam
Chief editor Umer

تیل کے عالمی بحران میں عوامی ریلیف اور قومی مفاد کا متوازن راستہ

تجزیہ بی این پی
دنیا اس وقت توانائی کے ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے جس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ معیشت، صنعت، تجارت، زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس اور عام آدمی کے گھریلو بجٹ تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ایک دوہرا چیلنج بن جاتا ہے، کیونکہ ایک طرف درآمدی بل بڑھتا ہے اور دوسری طرف حکومت پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا یہ کہنا کہ ”تیل کے طوفان کا مقابلہ غیر مشروط امداد سے نہیں کر سکتے” دراصل اسی معاشی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ریاست کو عوامی ریلیف اور قومی مالیاتی استحکام کے درمیان ایک قابلِ عمل توازن قائم کرنا ہوگا۔
پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برس سے مشکلات کے ایک پیچیدہ دور سے گزری ہے۔ ایسے میں کسی بھی حکومت کے لیے یہ آسان نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہر اضافے کا مکمل بوجھ قومی خزانے پر منتقل کر دے۔ اگر حکومت ایسا کرے تو وقتی طور پر عوام کو کچھ سہولت ضرور مل سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں مالی خسارہ، درآمدی دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ اور مہنگائی کے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے موجودہ مشکل حالات میں ملک کی بساط کے اندر رہتے ہوئے عام آدمی کو ریلیف دینے کی کوشش ایک خوش آئند حکومتی ترجیح قرار دی جا سکتی ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** اصل امتحان یہ ہے کہ عوام کو ریلیف بھی دیا جائے اور معیشت کو ایسے فیصلوں سے محفوظ بھی رکھا جائے جو وقتی سیاسی مقبولیت تو پیدا کریں لیکن مستقبل میں قومی خزانے کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن جائیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوامی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے مختلف سطحوں پر ریلیف کے امکانات پر غور کیا ہے۔ یہ امر اس بات کی علامت ہے کہ حکومت معاشی اعدادوشمار کے ساتھ ساتھ عام شہری کی عملی مشکلات کو بھی پیش نظر رکھ رہی ہے۔پٹرول کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی پاکستان میں زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے ضروریہ کی ترسیل تک، صنعت کے پیداواری اخراجات سے لے کر کسان کے ٹیوب ویل اور زرعی مشینری کے اخراجات تک، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پورے معاشی نظام میں اثرانداز ہوتی ہیں۔ اسی لیے تیل کا موجودہ بحران محض وزارت پٹرولیم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کا مسئلہ ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے کم آمدنی والے طبقے کو نسبتاً زیادہ تحفظ مل سکے۔وزیراعظم کی جانب سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ریلیف کی کوشش اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ ریاستی وسائل محدود ہوں تو ضروری ہے کہ دستیاب وسائل کو سب سے زیادہ مستحق طبقات تک پہنچایا جائے۔ ہر شہری کو یکساں سبسڈی دینے کے بجائے ایسے طبقات کی نشاندہی زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے جن پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، چنگ چی چلانے والے، کم آمدنی والے ٹرانسپورٹ ورکرز اور محدود وسائل رکھنے والے شہری ایسے طبقات ہیں جن کے لیے پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست روزگار اور روزمرہ زندگی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
علی پرویز ملک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عالمی منڈی میں جیسے ہی تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی، پاکستان میں بھی اس کا اثر منتقل کیا جائے گا۔ یہ اصول نہ صرف معاشی طور پر درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر عالمی قیمتوں میں کمی واقع ہو تو اس کا مناسب حصہ مقامی صارف تک منتقل ہونا چاہیے۔ اسی طرح عالمی قیمتوں میں اضافے کے دوران حکومت کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ممکنہ حد تک عوام پر اضافی بوجھ کو کم رکھا جائے۔
اس بحران کا دوسرا اہم پہلو گیس کی دستیابی ہے۔ وفاقی وزیر نے بروقت ایل پی جی منگوانے کی بات کی ہے تاکہ موسم سرما میں گیس کے بحران کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے پاکستان میں توانائی کے اعتبار سے ہمیشہ حساس رہے ہیں۔ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعت، کاروبار اور بجلی پیدا کرنے والے شعبے بھی گیس کی دستیابی سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے سردیوں سے پہلے ضروری انتظامات مکمل کرنا کسی بھی صورت محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔
حکومت اگر موسم سرما کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرتی ہے، متبادل ایندھن کا انتظام کرتی ہے اور درآمدی ضروریات کا بروقت تخمینہ لگاتی ہے تو اس سے بحران کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔ بحران آنے کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے بحران سے پہلے تیاری کرنا بہتر حکمرانی کی بنیادی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کو دسمبر، جنوری اور فروری کے ممکنہ چیلنجز سے آگاہ کیا جانا اور سردیوں سے پہلے اقدامات کی نشاندہی کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔
موجودہ صورتحال کا ایک پہلو قومی سلامتی بھی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف معاشی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری طرف دہشتگردی کے خطرات بھی موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے دوبارہ سر اٹھانے کے حوالے سے وفاقی وزیر کی تشویش کو اسی وسیع تر قومی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ان قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے بنیادی تقاضوں پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی اختلاف فطری امر ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا اپنا اپنا سیاسی کردار ہے، لیکن ایسے مواقع پر قومی ترجیحات کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ دہشتگردی، معیشت، توانائی اور سرحدی سلامتی جیسے معاملات پر کم از کم بنیادی قومی اتفاق رائے پیدا ہونا چاہیے۔ سیاسی بیان بازی اور اختلافات اپنی جگہ، مگر ریاست کے بنیادی مفادات پر اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ ہی ملک کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق آج پاکستان کو ایسے سیاسی رویے کی ضرورت ہے جس میں اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو محاذ آرائی نہ بنایا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کی جائز تجاویز کو سنے، جبکہ اپوزیشن کو بھی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے معاملات میں ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ ملک کے موجودہ حالات کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ پوری قوم کے امتحان کا تقاضا کر رہے ہیں۔
تیل کے بحران کے حوالے سے 2022ء کا تجربہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ماضی میں مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باوجود بڑے پیمانے پر اخراجات اور سبسڈی کے فیصلوں نے قومی معیشت کو شدید دباؤ میں پہنچایا۔ اس تجربے سے سبق یہی ملتا ہے کہ عوامی ریلیف ضروری ہے مگر ایسا ریلیف جو معیشت کو مزید کمزور نہ کرے۔ اگر ایک ہاتھ سے عوام کو وقتی سہولت دی جائے اور دوسرے ہاتھ سے قومی خزانے کو ناقابل برداشت نقصان پہنچ جائے تو طویل مدت میں اس کا خمیازہ بھی عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اسی لیے موجودہ حکومت کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ ریلیف اور مالی نظم و ضبط دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عام آدمی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کے اندر رہ کر اقدامات کرنے کی پالیسی اس حوالے سے درست سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریلیف کے فیصلے شفاف، ہدفی اور قابلِ برداشت ہوں، تاکہ مستحق شہری کو سہولت بھی ملے اور قومی معیشت غیر ضروری بوجھ سے بھی محفوظ رہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم کا آئندہ ہفتے سعودی عرب کا دورہ بھی موجودہ صورتحال میں اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور برادر ملک ہے اور مشکل حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے۔ تیل کی فراہمی کے حوالے سے سعودی تعاون اور مشکل وقت میں اظہار یکجہتی پاکستان کے لیے یقیناً اہم ہے۔ تاہم خارجہ تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی داخلی توانائی پالیسی، متبادل ذرائع، مقامی پیداوار اور توانائی کے مؤثر استعمال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر عالمی بحران پاکستان کے لیے یہ سبق دہراتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف پیش قدمی ناگزیر ہے۔ شمسی توانائی، پن بجلی، مقامی گیس، قابل تجدید ذرائع اور توانائی کی بچت کے منصوبے طویل مدت میں درآمدی تیل پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔ اگر موجودہ بحران کو صرف فوری قیمتوں کے مسئلے کے طور پر دیکھا گیا تو اس کا حل بھی عارضی ہوگا، لیکن اگر اسے توانائی کے پورے نظام کی اصلاح کے موقع کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہی بحران مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت جذباتی فیصلوں کے بجائے دوراندیش پالیسی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی ریلیف کے لیے تمام ممکنہ راستے تلاش کرے، مگر قومی خزانے کی حدود کو بھی نظر انداز نہ کرے۔ عام آدمی کے مسائل کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں اور معیشت کی بنیادیں کمزور کرنا بھی دانشمندانہ نہیں۔ دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک متوازن راستہ ہی موجودہ صورتحال کا قابلِ عمل حل ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعظم نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف دینے کی ذمہ داری محسوس کی ہے اور وفاقی وزارت پٹرولیم مستقبل کے توانائی چیلنجز کے لیے پیشگی اقدامات پر توجہ دے رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کوششوں کو مربوط قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی اتار چڑھاؤ، گیس کی طلب، سردیوں کی ضروریات، قومی سلامتی اور عوامی بہبود—ان تمام معاملات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔موجودہ بحران پاکستان کے لیے ایک مشکل آزمائش ضرور ہے، لیکن ہر آزمائش اپنے اندر اصلاح اور بہتری کا موقع بھی رکھتی ہے۔ اگر حکومت عوامی ریلیف، مالیاتی نظم، توانائی کے متبادل ذرائع اور قومی سلامتی کو ایک جامع پالیسی کے تحت آگے بڑھاتی ہے تو موجودہ دباؤ کو مستقبل کی مضبوطی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کو مشکل حالات میں تنہا نہ چھوڑنے کا عزم اور وفاقی وزیر پٹرولیم کی جانب سے پیشگی انتظامات کی یقین دہانی اس سمت میں مثبت اشارے ہیں۔
آخرکار ریاست کا اصل مقصد یہی ہے کہ مشکل وقت میں شہری کو تحفظ، معیشت کو استحکام اور ملک کو وقار فراہم کیا جائے۔ تیل کا عالمی بحران پاکستان کے اختیار میں نہیں، لیکن اس بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی بہرحال پاکستان کے اختیار میں ہے۔ دانشمندی یہی ہے کہ عوام کو ممکنہ ریلیف دیا جائے، قومی وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کیا جائے، دوست ممالک کے تعاون سے فائدہ اٹھایا جائے، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے اور سیاسی قوتیں قومی سلامتی و معاشی استحکام کے معاملے میں باہمی تعاون کا راستہ اختیار کریں۔ یہی وہ متوازن طرز عمل ہے جو موجودہ مشکل کو قومی کمزوری کے بجائے قومی استقامت اور بہتر مستقبل کی بنیاد بنا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More