تجزیہ بی این پی
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف متوقع لانگ مارچ کے معاملے میں پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آنا اس امر کی علامت ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی احتجاج کے طریقہ کار، اس کے ممکنہ نتائج اور بالخصوص کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ غوروفکر کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر قائدین کو خط لکھ کر بیرونی خطرات، دہشت گردی میں اضافے اور کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔
شوکت یوسفزئی کی یہ تجویز محض ایک سیاسی رائے کے طور پر نظرانداز کرنے کے بجائے وسیع تر قومی تناظر میں غور طلب ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری سیاست کا لازمی حصہ ہے اور سیاسی جماعتوں کے اندر مختلف آرا کا سامنے آنا کسی غیر معمولی امر کی بات نہیں، تاہم جب کوئی سیاسی رہنما اپنے کارکنوں کی جانوں کے تحفظ، صوبے کے امن و امان اور ملک کو درپیش بیرونی و داخلی خطرات کو بنیاد بنا کر کسی بڑے احتجاج کو مؤخر کرنے کی بات کرے تو اس موقف پر جذبات کے بجائے سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ تجزیہ بی این پی کے مطابق شوکت یوسفزئی کی تجویز کا بنیادی نکتہ تصادم سے گریز اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے کی خواہش ہے، جسے موجودہ حالات میں نظرانداز کرنا دانش مندانہ نہیں ہوگا۔
شوکت یوسفزئی نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ بیرونی خطرات اور دہشت گردی میں اضافے کے پیش نظر احتجاج ملتوی کیا جائے اور ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ حالات میں بعض معاملات کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی کے نفاذ، صوبائی حکومت کے خلاف اقدامات یا سیاسی مشکلات میں اضافے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی سیاسی کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہاں اصل سوال کسی ایک جماعت یا حکومت کی سیاسی کامیابی یا ناکامی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کیا ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، ایک بڑے احتجاج کو اس انداز میں آگے بڑھانا مناسب ہوگا جس سے سکیورٹی اداروں، سیاسی کارکنوں، عام شہریوں اور انتظامیہ کے لیے اضافی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہو؟ اس سوال کا جواب سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کے تناظر میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال میں امن و امان بنیادی مسئلہ ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات نے پہلے ہی عوام کو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کے سیاسی جذبات کو جمہوری اور پْرامن طریقے سے منظم کریں اور ایسا کوئی قدم اٹھانے سے قبل اس کے ممکنہ انسانی اور انتظامی اثرات کا بھی جائزہ لیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن اس حق کے استعمال کے ساتھ شہریوں اور کارکنوں کی حفاظت بھی ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔
شوکت یوسفزئی کی بات کا اہم پہلو یہی ہے کہ انہوں نے پارٹی کے سیاسی مؤقف کو ترک کرنے کے بجائے وقتی طور پر احتجاج ملتوی کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کے بقول ان کی خواہش تھی کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ اس کے ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت سے مل بیٹھ کر بات کی جائے اور اس سلسلے میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ طرزِ فکر اس اعتبار سے بھی قابل توجہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے کسی نہ کسی مقام پر مذاکرات کی میز ہی واحد پائیدار راستہ بنتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، سیاسی مطالبات اپنی جگہ اور عدالتی معاملات اپنی جگہ، لیکن ان تمام معاملات کے باوجود قومی سلامتی اور انسانی جانوں کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت نے فی الحال 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے متبادل کی تلاش سے متعلق اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے بھی 4 اکتوبر کے مارچ کو ہر صورت جاری رکھنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
یہ اختلافِ رائے خود اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ پارٹی قیادت شوکت یوسفزئی کی تجویز کو محض اختلافی آواز سمجھنے کے بجائے اس کے محرکات کا جائزہ لے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن دراصل اس جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی سیاسی وابستگی اپنی جگہ، لیکن ان کی جانوں اور سلامتی کی ذمہ داری بھی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کسی احتجاج کے دوران تصادم، بدامنی یا دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے تو قیادت کے لیے یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ سیاسی مقصد کے حصول کے لیے کون سا طریقہ زیادہ محفوظ اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہ ہونے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات سے انکار نہیں کرتی، تاہم ان کے مطابق احتجاج کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے اور مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کو متعدد مواقع دیے گئے ہیں۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی امکان کا ذکر کیا ہے، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے بھی سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔
ایسے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی ماحول پہلے ہی خاصا حساس ہے۔ اگر ایک طرف احتجاج کی تیاری ہو اور دوسری طرف حکومت کی جانب سے سخت انتظامی یا آئینی اقدامات کی بات کی جائے تو کشیدگی میں اضافے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی بصیرت کا تقاضا یہ بنتا ہے کہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی تصادم کے امکانات کم کرنے کے لیے عملی راستہ تلاش کریں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق شوکت یوسفزئی کی تجویز کی اصل اہمیت اسی پہلو میں ہے کہ وہ سیاسی جدوجہد کو ترک کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وقتی طور پر حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے جلسے، احتجاج اور دیگر جمہوری سرگرمیاں مناسب وقت پر دوبارہ بھی کر سکتی ہیں، لیکن اگر کسی احتجاج کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جائیں تو اس نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔
اس لیے خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ پارٹی کے اندر موجود مختلف آرا کو سیاسی اختلاف کے بجائے مشاورت کے عمل کا حصہ بنائیں۔ شوکت یوسفزئی پارٹی کے سینئر رہنما اور سیکرٹری اطلاعات ہیں، اس لیے ان کی جانب سے کارکنوں کی جانوں کے تحفظ اور مذاکرات کی بات کو تحمل کے ساتھ سننا سیاسی پختگی کی علامت ہوگا۔ ان کی تجویز کو رد کرنے کے بجائے اس کے ہر پہلو کا جائزہ لینا نہ صرف پارٹی کے اندر اعتماد کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ سیاسی ماحول میں بھی کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی اور امن و امان کے مسئلے پر براہِ راست رابطے کا مؤثر نظام قائم کرے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات عام شہری، پولیس، فوج اور تمام سیاسی و سماجی طبقات تک پہنچتے ہیں۔ اگر وفاق اور صوبہ باہمی اختلافات کے باوجود سکیورٹی کے معاملے پر ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو یہی عمل سیاسی تنازعات کے حل کے لیے بھی ماحول سازگار بنا سکتا ہے۔
سیاسی اختلاف کو ختم کرنا ضروری نہیں، لیکن سیاسی اختلاف کو پرامن رکھنا ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا کام ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرنا لازمی نہیں، مگر ایک دوسرے سے بات کرنا جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر لانگ مارچ کچھ عرصے کے لیے مؤخر کر دیا جائے اور اس دوران مذاکرات، ایپکس کمیٹی اور دیگر آئینی و سیاسی فورمز کو فعال کیا جائے تو فریقین کو اپنے اپنے مؤقف پر غور اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے وقت مل سکتا ہے۔
شوکت یوسفزئی کی تجویز میں سب سے قابل توجہ پہلو یہی ہے کہ انہوں نے سیاسی کارکنوں کو محض ایک احتجاجی قوت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی جانوں کے حامل شہریوں کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ احساسِ ذمہ داری قابلِ تعریف اور قابلِ ستائش ہے۔ سیاسی جدوجہد کا مقصد بالآخر عوام کی بہتری اور ملک کے استحکام سے جڑا ہونا چاہیے۔ اگر کسی موقع پر حالات یہ تقاضا کریں کہ تصادم کے بجائے مکالمہ اختیار کیا جائے تو مذاکرات کی طرف قدم بڑھانا سیاسی کمزوری نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی علامت بن سکتا ہے۔آج پاکستان کو سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ سیاسی تدبر کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کو امن، وفاق کو استحکام اور عوام کو اطمینان درکار ہے۔ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ جو بھی ہو، اس کے بارے میں آخری مرحلے پر بھی یہ سوال ضرور سامنے رہنا چاہیے کہ اس عمل سے عوام، کارکنوں اور ملک کے مجموعی امن پر کیا اثر پڑے گا۔ شوکت یوسفزئی نے اسی بنیادی سوال کو اپنی جماعت کے سامنے رکھا ہے۔
اب گیند پی ٹی آئی کی قیادت کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس تجویز کو کس انداز میں دیکھتی ہے۔ اگر سیاسی اختلاف کو مذاکرات میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، کارکنوں کی سلامتی کو مقدم رکھا جائے اور وفاق و صوبہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو موجودہ کشیدہ ماحول میں بہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے احتجاجی پروگرام دوبارہ ترتیب دے سکتی ہیں، مگر امن کا موقع بار بار نہیں ملتا۔ اس لیے شوکت یوسفزئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے، کارکنوں کی جانوں کے تحفظ اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی تجویز پر خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کو سنجیدہ، ٹھنڈے دل اور وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں غور ضرور کرنا چاہیے۔