تجزیہ بی این پی
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کی معاشی، زرعی، صنعتی اور سماجی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ جس معاشرے میں پانی کے وسائل محفوظ اور منظم ہوں وہاں زراعت مضبوط، خوراک کی پیداوار مستحکم، صنعت کا پہیہ رواں اور شہری زندگی نسبتاً پرسکون رہتی ہے، لیکن جہاں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہوجائیں وہاں ترقی کے تمام منصوبے ایک بڑے سوالیہ نشان کی زد میں آجاتے ہیں۔ پاکستان اس وقت اسی نوعیت کے ایک اہم اور سنگین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک آبی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ برس کے دوران ملک میں زیر زمین پانی کی مقدار میں تقریباً چھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ اعدادوشمار محض ایک ماحولیاتی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو زراعت، خوراک، معیشت اور عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تقریباً 23 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 33 فیصد رقبے کے نیچے زیر زمین پانی ختم ہوچکا ہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر پانی کے استعمال اور زیر زمین ذخائر کے تحفظ کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب کے تقریباً 36 فیصد اور خیبر پختونخوا کے 42 فیصد مزید رقبے سے بھی زیر زمین پانی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ عوام کیلئے بھی ایک واضح انتباہ ہے کہ پانی کو لامحدود اور ہمیشہ دستیاب رہنے والا قدرتی وسیلہ سمجھنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ زیر زمین پانی کسی ایک نسل کی ملکیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی حق ہے اور اس حق کی حفاظت موجودہ نسل کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں زیر زمین پانی کے ذخائر پر سب سے زیادہ دباؤ زرعی شعبے کی طرف سے آتا ہے۔ ہماری معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور فصلوں کی آبپاشی کیلئے نہری پانی کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویلوں اور دیگر ذرائع سے زیر زمین پانی بڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف پانی کے استعمال کا نہیں بلکہ اس طریقہ کار کا بھی ہے جس کے ذریعے پانی کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ روایتی آبپاشی کے نظام میں پانی کی ایک بڑی مقدار فصل کی ضرورت پوری کرنے سے پہلے ہی ضائع ہوجاتی ہے۔ بعض علاقوں میں کھیتوں کو ضرورت سے زیادہ پانی دینا ایک معمول بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی پانی ضائع ہوتا ہے بلکہ زمین کی پیداواری صلاحیت اور معیار بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو اب پانی کے معاملے میں محض بحران کے بعد ردعمل دینے کی پالیسی کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی کی طرف جانا ہوگا۔ پانی کی کمی ایسی حقیقت ہے جسے کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک صوبے کے اقدامات سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کیلئے وفاق، صوبوں، محکمہ آبپاشی، زراعت کے اداروں، بلدیاتی نظام، ماہرین، کسانوں اور شہریوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے پانی کے موجودہ ذخائر، استعمال اور ضیاع کا جامع سائنسی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں پانی کی صورتحال کس رفتار سے تبدیل ہورہی ہے اور آئندہ برسوں میں کن علاقوں کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ناقص آبپاشی کے نظام اور شہری علاقوں میں پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث ملک کا تقریباً 60 فیصد پانی ضائع ہورہا ہے۔ اگر یہ اندازہ درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کیلئے پانی کی قلت کا مسئلہ صرف کم بارش یا دریاؤں میں پانی کی کمی تک محدود نہیں بلکہ پانی کے انتظام کا بحران بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ جس پانی کو بہتر نظام کے ذریعے محفوظ کرکے فصلوں، صنعتوں، گھروں اور مستقبل کی ضروریات کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، اگر وہ ضائع ہوجائے تونئے ذخائر کی تلاش بھی مسئلے کا مکمل حل فراہم نہیں کرسکتی۔
اس صورتحال میں ڈرپ ایری گیشن جیسے جدید طریقہ ہائے آبپاشی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ڈرپ ایری گیشن کے ذریعے پانی براہ راست پودے کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی کے غیرضروری ضیاع کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح اسپرنکلر آبپاشی اور دیگر جدید تکنیکیں بھی ان علاقوں میں قابل عمل متبادل ہوسکتی ہیں جہاں روایتی آبپاشی کے باعث پانی کا زیادہ نقصان ہورہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جدید آبپاشی کے نظام کو محض چند تجرباتی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع پیمانے پر فروغ دے۔ کسانوں کیلئے آسان شرائط پر مالی معاونت، تکنیکی رہنمائی، تربیت اور جدید آلات کی فراہمی اس عمل کو تیز کرسکتی ہے۔
زرعی شعبے میں پانی کے استعمال کو بہتر بنانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو ایک طرف پانی کی قلت کا سامنا ہے اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے خوراک کی ضروریات بھی پوری کرنا ہیں۔ اس چیلنج کا حل فصلوں کو کم کرنا نہیں بلکہ پانی کی فی یونٹ پیداوار بڑھانا ہے۔ ایسی فصلوں اور زرعی طریقوں کو فروغ دینا ہوگا جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں۔ زرعی تحقیق کے اداروں کو ایسے بیج، فصلیں اور طریقہ ہائے کاشت متعارف کرانے چاہئیں جو بدلتے ہوئے موسمی حالات اور محدود آبی وسائل کے مطابق ہوں۔ کسان کو صرف پانی بچانے کا مشورہ دینا کافی نہیں بلکہ اسے عملی طور پر یہ سہولت دینا بھی ضروری ہے کہ وہ کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کرسکے۔
زیر زمین پانی کے تحفظ کیلئے بارش کے پانی کو محفوظ کرنا بھی ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال مختلف علاقوں میں بارش ہوتی ہے لیکن اس پانی کا بڑا حصہ تیزی سے بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر ہر سال ہونے والی بارش کا صرف 25 فیصد پانی بھی ریچارج ایبل کنوؤں کے ذریعے زمین میں پہنچایا جائے تو زیر زمین پانی کی سطح کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں بارش کے پانی کو نکاسی آب کے ذریعے باہر بہا دینے کے بجائے اسے محفوظ کرنے اور زمین میں جذب کرنے کیلئے مناسب نظام بنایا جاسکتا ہے۔
بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے کا عمل صرف زیر زمین پانی کے ذخائر میں اضافے کا ذریعہ نہیں بن سکتا بلکہ شہری سیلاب اور بارش کے بعد پیدا ہونے والی نکاسی آب کی مشکلات میں بھی کمی لانے میں معاون ہوسکتا ہے۔ بڑے شہروں میں ایسے مقامات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جہاں بارش کا پانی جمع کرکے اسے مناسب طریقے سے زمین میں اتارا جائے۔ نئی ہاؤسنگ اسکیموں، سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، پارکوں اور صنعتی علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو تعمیراتی منصوبوں کا لازمی حصہ بنانے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
شہری علاقوں میں پانی کا استعمال بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ گھروں میں نل کھلا چھوڑ دینا، گاڑیوں اور صحنوں کو ضرورت سے زیادہ پانی سے دھونا، لیکیج کو نظرانداز کرنا اور پینے کے صاف پانی کو غیرضروری کاموں میں استعمال کرنا ایسی عادات ہیں جو اجتماعی طور پر پانی کے بڑے نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے لوگوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ پانی بچانا محض حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ ایک گھر میں بچائی گئی چند لیٹر مقدار شاید معمولی محسوس ہو، لیکن لاکھوں گھروں میں یہی معمولی بچت ایک بڑے قومی ذخیرے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ شہری پانی کی فراہمی کے نظام میں لیکیج کا مسئلہ بھی حل کرنا ہوگا۔ کئی شہروں میں پرانی اور بوسیدہ پائپ لائنوں کے باعث پانی کا بڑا حصہ صارف تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہوجاتا ہے۔ اس نقصان کو کم کئے بغیر صرف عوام سے پانی بچانے کی اپیلیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔ واٹر سپلائی کے نظام کی جدید کاری، پائپ لائنوں کی بروقت مرمت، پانی کے معیار کی نگرانی اور استعمال کی درست پیمائش کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
زیر زمین پانی کے بے تحاشا اخراج کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ مختلف علاقوں میں ٹیوب ویلوں کی تعداد اور پانی نکالنے کی مقدار کے حوالے سے مؤثر نگرانی نہ ہو تو زیر زمین ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار رہیں گے۔ حکومت کو سائنسی بنیادوں پر واٹر مینجمنٹ پالیسی تیار کرکے ایسے علاقوں کی درجہ بندی کرنی چاہیے جہاں زیر زمین پانی تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ان علاقوں میں پانی کے اخراج کو منظم کرنے، ریچارج منصوبے شروع کرنے اور متبادل ذرائع فراہم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا آبی مسئلہ صرف زیر زمین پانی تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے غیرمتوقع پیٹرن، درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز میں تبدیلی، سیلاب اور خشک سالی جیسے عوامل بھی ملک کے آبی مستقبل پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں پانی کے ہر ذریعے کو ایک مربوط نظام کے تحت دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈیم، نہری نظام، بارش کا پانی، زیر زمین ذخائر، شہری پانی کی بچت اور جدید زرعی تکنیکیں ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی قومی آبی حکمت عملی کے مختلف حصے ہیں۔
پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ پانی کے معاملے کو وقتی انتظامی مسئلے کے بجائے قومی سلامتی، معاشی استحکام اور غذائی تحفظ کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر زراعت کیلئے پانی دستیاب نہ رہا تو خوراک کی پیداوار متاثر ہوگی، اگر شہروں میں صاف پانی کی قلت بڑھی تو عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا، اور اگر صنعت کو مناسب پانی نہ ملا تو معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑے گا۔ یوں پانی کا مسئلہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** موجودہ صورتحال حکومت کیلئے ایک ایسا موقع بھی ہے کہ ملک میں ایک جامع اور طویل المدتی قومی آبی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت پانی کے ذخائر، استعمال، ریچارج، آبپاشی، شہری ضروریات اور ماحولیاتی تقاضوں کو ایک ہی فریم ورک میں شامل کیا جائے۔ اس پالیسی پر حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ پانی کے منصوبے سیاسی ادوار کے بجائے قومی ضروریات کے مطابق مکمل ہوں۔ پانی کے معاملے میں تاخیر کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑسکتی ہے، اس لئے فیصلوں کو مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کرنا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پانی کے تحفظ کو عملی تربیت کا حصہ بنایا جائے۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، پانی کے ضیاع کی نشاندہی کرنے اور ماحول دوست طریقوں کے فروغ کیلئے عملی منصوبے شروع کئے جاسکتے ہیں۔ جب پانی کی بچت معاشرتی عادت بنے گی تو حکومتی اقدامات کے نتائج بھی زیادہ مؤثر ہوں گے۔
پاکستان کے پاس آج بھی اپنے آبی مستقبل کو بہتر بنانے کے مواقع موجود ہیں، لیکن ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے سنجیدہ، مستقل اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ زیر زمین پانی میں چھ فیصد کمی کا معاملہ اگر آج ہماری ترجیحات میں شامل ہوتا ہے تو آنے والے بڑے نقصان سے بچنے کے امکانات پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں کے اعدادوشمار ہمیں واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ خطرہ محض مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ کئی علاقوں میں مسئلہ موجودہ حقیقت بن چکا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کو قومی مزاج کا حصہ بنایا جائے، جدید آبپاشی کو فروغ دیا جائے، بارش کے پانی کو محفوظ کیا جائے، ریچارج ایبل کنوؤں کے منصوبوں کو وسعت دی جائے، شہری پانی کے نظام میں ہونے والے ضیاع کو کم کیا جائے اور زیر زمین پانی کے اخراج کی سائنسی بنیادوں پر نگرانی کی جائے۔ حکومت کو ماہرین، کسانوں، مقامی حکومتوں اور عوام کے اشتراک سے ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جو آج کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ کل کی نسلوں کیلئے بھی پانی محفوظ رکھ سکے۔
پانی کے بحران کا حل صرف نئے ڈیم بنانے یا نئے کنویں کھودنے میں نہیں بلکہ موجودہ پانی کو دانش مندی سے استعمال کرنے، ضائع ہونے سے بچانے اور قدرتی آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر بارش کا پانی زمین میں واپس پہنچایا جائے، کھیتوں میں پانی کی بچت کی جائے اور گھروں میں ایک ایک بوند کی قدر کی جائے تو صورتحال میں بہتری کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ روش برقرار رہی تو زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح ایک ایسے بحران کو جنم دے سکتی ہے جس کا اثر صرف پانی کے حصول تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ہماری زراعت، خوراک، معیشت اور معاشرتی زندگی بھی اس سے متاثر ہوگی۔
آج ضرورت خوف پیدا کرنے کی نہیں بلکہ بروقت بیداری اور عملی اقدام کی ہے۔ پاکستان کے آبی مستقبل کا فیصلہ آنے والے برسوں میں ہونے والے اقدامات سے ہوگا۔ پانی کو اگر قومی ترجیح بنا لیا جائے تو موجودہ وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرکے بحران کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر زیر زمین پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو آنے والی نسلیں اس غفلت کی بھاری قیمت ادا کرسکتی ہیں۔ اس لئے حکومت، اداروں اور عوام سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ پانی کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور پاکستان کے زیر زمین آبی ذخائر کو آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے آج ہی مؤثر قدم اٹھایا جائے گا۔
شاید آپ یہ بھی پسند کریں