Dailyitlaeaam
Chief editor Umer

فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ امن، سلامتی اور قومی مفاد کی مضبوط آواز

تجزیہ بی این پی
امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات محض ایک معمول کی سفارتی یا عسکری سرگرمی نہیں بلکہ دو دہائیوں پر محیط ایک ایسی جنگ کے ماضی، حال اور مستقبل پر غور کا اہم موقع ہے جس کے اثرات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے۔ اس جنگ نے پورے خطے کے سیاسی، سفارتی، معاشی اور سلامتی کے منظرنامے کو متاثر کیا اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس تنازعے کے اثرات سب سے زیادہ برداشت کیے۔ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کا مقصد بھی بنیادی طور پر افغانستان میں امریکہ کی بیس سالہ شمولیت کا جائزہ لینا ہے، اس لیے پاکستان کا نقط نظر اس جائزے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس ملاقات کی سب سے اہم جہت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے تجربے کو محض ماضی کی شکایت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں امریکی مداخلت کے اسٹریٹجک، سفارتی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ علاقائی حقائق کو سامنے رکھ کر لیا جائے۔ کسی بھی جنگ کا تجزیہ صرف اس ملک کے نقط نظر سے مکمل نہیں ہوسکتا جو جنگ میں براہ راست شریک رہا ہو۔ اس کے ہمسایہ ممالک، خصوصاً وہ ملک جس نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، سرحدی عدم استحکام برداشت کیا اور دہشت گردی کے خلاف طویل کارروائیوں کا سامنا کیا، اس کی رائے بھی تاریخی ریکارڈ کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔
پاکستان نے نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیا۔ اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان کو داخلی سلامتی کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک کے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے بھاری جانی نقصان اٹھایا جبکہ معیشت کو بھی بڑے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اس طویل عرصے میں ملک نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی اور بڑے معاشی نقصانات کا سامنا کیا۔ اس پس منظر میں امریکی افغانستان جنگ کمیشن کی جانب سے پاکستانی تجربے کو سننا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ جنگ کے فیصلوں کے نتائج کا جائزہ صرف میدانِ جنگ میں ہونے والی کارروائیوں سے نہیں بلکہ ان کے دیرپا علاقائی اثرات سے بھی لیا جانا چاہیے۔
افغانستان کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کی فوجی موجودگی ختم ہونے کے بعد بھی جنگ کے اثرات فوراً ختم نہیں ہوتے۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی خطے میں سلامتی کے مسائل موجود رہے اور پاکستان کو اپنی مغربی سرحد سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو اس کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ حالیہ دنوں میں بھی پاکستانی حکام نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور سرحد پار دہشت گردی کے خدشات پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ پورے خطے کے امن سے متعلق معاملہ ہے۔
اس تناظر میں امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے لیے پاکستان کی بات سننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں بیس برس تک سیاسی، عسکری اور سفارتی سطح پر وسیع کردار ادا کیا۔ اس عرصے میں امریکہ نے افغانستان میں ریاستی اداروں کی تعمیر، سکیورٹی فورسز کی تربیت، سیاسی عمل اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی سرمایہ کاری کی، تاہم بالآخر امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان ایک پیچیدہ سیاسی اور سلامتی کے مرحلے میں داخل ہوا۔ اس پوری صورتحال کا غیر جانب دارانہ جائزہ مستقبل کی عالمی پالیسی سازی کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور مختلف ادوار میں ان میں قربت بھی آئی اور فاصلے بھی پیدا ہوئے۔ افغانستان کا معاملہ ان تعلقات میں ہمیشہ ایک بنیادی عنصر رہا ہے۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر امریکہ کے ساتھ تعاون کیا، لیکن اس تعاون کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام میں یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ پاکستان کو اپنے حصے کے نقصانات کے مقابلے میں مطلوبہ سطح کی طویل المدت معاونت نہیں مل سکی۔ دوسری طرف امریکی پالیسی سازوں کے پاس بھی افغانستان، دہشت گردی، سرحدی علاقوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اپنے خدشات اور ترجیحات رہی ہیں۔ اس لیے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک ماضی کے اختلافات کو جذباتی انداز میں دہرانے کے بجائے ان کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔اس ملاقات کی ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ امریکی وفد نے پاکستان کے کردار اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔ بلاشبہ کسی ملک کے کردار کا اعتراف اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ اس اعتراف کو مستقبل کے عملی تعاون میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات سے کوئی سبق حاصل کرنا مقصود ہے تو اس کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ خطے کے ممالک کو نظر انداز کرکے کوئی پائیدار سکیورٹی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
پاکستان کے لیے بھی یہ موقع صرف اپنی قربانیوں کا مقدمہ پیش کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ایک مستحکم، پرامن اور خودمختار افغانستان کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، جغرافیائی، معاشی اور انسانی روابط موجود ہیں۔ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان کی مغربی سرحد پر نسبتاً بہتر سلامتی، تجارت کے لیے نئے امکانات اور خطے میں معاشی روابط کے فروغ کے لیے زیادہ سازگار ماحول ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ایک مستحکم افغانستان وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان معاشی رابطوں کو بھی بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو صرف عسکری زاویے سے دیکھنے سے مسئلے کا مکمل حل سامنے نہیں آتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں، مگر اس کے ساتھ سیاسی استحکام، معاشی مواقع، تعلیم، روزگار، سرحدی نظم و نسق اور علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔ افغانستان کے اندر دیرپا امن اسی وقت ممکن ہوگا جب وہاں کے عوام کو ایسا سیاسی اور معاشی ماحول میسر آئے جس میں تشدد کے بجائے ریاستی اداروں اور سیاسی عمل کو تقویت حاصل ہو۔
امریکہ کے لیے بھی افغانستان کا تجربہ مستقبل کی خارجہ اور عسکری پالیسی کے حوالے سے ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ کسی خطے میں طویل فوجی موجودگی کے فیصلے صرف جنگی اہداف کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقامی معاشروں، علاقائی طاقتوں، ہمسایہ ممالک اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو سامنے رکھ کر کیے جانے چاہئیں۔ اسی طرح پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے بھی یہ تجربہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ علاقائی تنازعات میں طویل المدت قومی مفاد، داخلی استحکام اور سفارتی توازن کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
یہاں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مستقبل کے تعاون کی ایک نئی گنجائش بھی پیدا ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف معلومات کا تبادلہ، سرحدی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں اضافہ، افغانستان میں امن کے لیے سفارتی رابطہ اور خطے میں معاشی روابط وہ شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک مشترکہ مفادات تلاش کرسکتے ہیں۔ عالمی امن کے لیے کام کرنے والے اداروں اور بڑی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی وابستگیوں کے بجائے ٹھوس شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھیں۔
پاکستان کی جانب سے علاقائی نقط نظر کو امریکی کمیشن کے سامنے رکھنے کی اہمیت بھی اسی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔ جنگ کے دوران پاکستان نے جو فیصلے کیے، ان کے محرکات، مشکلات اور نتائج کو پاکستانی نقط? نظر سے سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی اپنے ماضی کے تجربے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے فیصلے زیادہ واضح اور دیرپا بنیادوں پر کیے جاسکیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی وفد کی ملاقات کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس ملاقات میں کسی ایک فریق کے مؤقف کو حتمی قرار دینے کے بجائے ماضی کے واقعات کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ امریکی کمیشن اگر پاکستان کے تجربے، افغان عوام کے حالات، علاقائی ممالک کے خدشات اور امریکہ کے اپنے فیصلوں کو ایک جامع فریم ورک میں رکھتا ہے تو اس سے افغانستان کی جنگ کے بارے میں زیادہ مکمل تصویر سامنے آسکتی ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب افغان جنگ کا یہ جائزہ محض ایک تاریخی رپورٹ بن کر نہ رہ جائے بلکہ مستقبل کی پالیسی کے لیے رہنمائی فراہم کرے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کو واضح طور پر اجاگر کرتا رہے، امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے کے زمینی حقائق کو زیادہ گہرائی سے سمجھے، جبکہ افغانستان کے لیے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ وہاں امن، استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات کو ترجیح دی جائے۔
دنیا نے گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ طاقت کے ذریعے وقتی نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے سیاسی بصیرت، علاقائی تعاون اور باہمی اعتماد ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان نے مشکل حالات میں امن اور سلامتی کے لیے جو قیمت ادا کی ہے، اس کا اعتراف یقیناً اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا نہ ہوں جہاں کسی ایک ملک کی جنگ کا سب سے بھاری بوجھ اس کے ہمسایہ ممالک کو اٹھانا پڑے۔امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے سامنے اب ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ کو صرف واشنگٹن کے فیصلوں یا امریکی فوجی مہم کے تناظر میں نہ دیکھے بلکہ پورے خطے کے تجربات کو اپنی تحقیق کا حصہ بنائے۔ پاکستان کا تجربہ، افغان عوام کی مشکلات اور خطے کی سلامتی کے تقاضے اس جائزے کو زیادہ جامع بنا سکتے ہیں۔ اگر اس عمل سے ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی، مستقبل کے لیے بہتر پالیسی اور علاقائی امن کے لیے قابلِ عمل تجاویز سامنے آتی ہیں تو یہ ملاقات اور یہ جائزہ محض ماضی کا حساب نہیں بلکہ ایک زیادہ محفوظ اور پْرامن مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
بالآخر افغانستان کا مسئلہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات پاکستان، ایران، وسطی ایشیا، امریکہ اور پوری عالمی برادری تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی جنگ کو الزام تراشی کے بجائے حقیقت پسندانہ تجزیے کی نظر سے دیکھا جائے۔ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ہو، امریکی فیصلوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، افغان عوام کے مستقبل کو مرکزِ نگاہ بنایا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی عالمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہی راستہ خطے کو جنگ کے سائے سے نکال کر پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔مضمون میں وائس نوٹ کے اس حصے کو شامل نہیں کیا گیا جس میں جنگِ ایران و عراق کے حوالے سے ایک الگ تاریخی دعویٰ آتا ہے، کیونکہ موجودہ ملاقات اور امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے موضوع سے اس کا براہِ راست تعلق واضح نہیں ہوتا۔ اس طرح مضمون کا مرکزی تھیم افغانستان، پاکستان کی قربانیاں، امریکی جائزہ اور علاقائی امن ہی پر قائم رہتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More