تجزیہ بی این پی
پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، جمہوری مطالبات اور سیاسی سرگرمیاں بھی آئینی حق ہیں، لیکن ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات اور داخلی و خارجی سکیورٹی کے چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے تصادم کے بجائے مذاکرات، پارلیمانی رابطوں اور آئینی راستوں کو ترجیح دیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال برقرار رکھنے، بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اسے مؤخر کرنے کی تجاویز، خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف آئینی آپشنز کا ذکر ایک ایسی سیاسی فضا کی عکاسی کرتا ہے جس میں معمولی غلط فہمی بھی حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف نے ستمبر 27 کے لیے اعلان کردہ مارچ کو سیاسی کمیٹی کی مشاورت کے بعد 4 اکتوبر تک مؤخر کیا تھا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور سے مارچ روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 30 ستمبر کو تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی کہا کہ 4 اکتوبر کی کال برقرار ہے، جبکہ پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے سکیورٹی خدشات، ممکنہ ایمرجنسی اور ریاستی تصادم کے خطرے کے پیش نظر مارچ مزید مؤخر کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خود سیاسی جماعت کے اندر بھی موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر جاری ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی احتجاج اور اختلافِ رائے کو مکمل طور پر ختم کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی یہ جمہوری عمل کے لیے موزوں ہے۔ تاہم احتجاج کا انداز، وقت اور طریق? کار اس وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب ملک کو دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور داخلی سلامتی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہو۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت نمایاں کی ہے کہ سکیورٹی فورسز اور عام شہری دونوں خطرات کی زد میں ہیں۔ 28 ستمبر کو ٹانک میں پولیس اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ میں تین اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہوئے، جبکہ اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں ایک حملے میں بھی جانی نقصان ہوا۔
افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں کی صورتحال بھی پاکستان کے لیے مستقل تشویش کا باعث ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے اور پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ افغان حکام ان الزامات سے اختلاف کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ملک کے اندر سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت، صوبے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کے لیے چیلنج ہے۔ اس کے خلاف جدوجہد میں سیاسی اختلافات کے باوجود کم از کم بنیادی قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے امکانات کو مکمل طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ وفاقی حکومت کی طرف سے تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دینے اور وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن قیادت سے رابطے کی اطلاعات موجود ہیں، جبکہ بیرسٹر گوہر بھی سیاسی رابطوں اور آل پارٹیز کانفرنس کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ملک کی مجموعی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور صوبائی معاملات پر مشاورت کرنی چاہیے۔ اس لیے یہ وقت رابطوں کے دروازے بند کرنے کے بجائے انہیں مزید وسیع کرنے کا ہے۔وفاقی حکومت کے نمائندوں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ریاستی اداروں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سیاسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کے سیاسی مطالبات، بانی چیئرمین سے ملاقاتوں اور علاج کے معاملات سمیت صوبائی خودمختاری سے متعلق خدشات کو سیاسی اور آئینی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ یہ دونوں مؤقف اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل ضرورت یہ ہے کہ ان اختلافات کو سڑکوں اور طاقت کے اظہار کے بجائے مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے بھی مارچ سے پہلے مذاکرات کی گنجائش کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔ 26 ستمبر کو ان کی طرف سے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی خبر سامنے آئی اور کہا گیا کہ مارچ سے پہلے بھی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جسے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ اگر فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات موجود ہیں تو ان کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مسلسل سیاسی رابطے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو تحریک انصاف کے اندر بھی مختلف آرا کا سامنے آنا ہے۔ بعض رہنماؤں کی طرف سے مارچ جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ شوکت یوسفزئی جیسے رہنماؤں نے موجودہ سکیورٹی حالات کے پیش نظر اسے مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو بیرونی خطرات اور دہشت گردی کے اضافے کا سامنا ہے اور سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں میں مختلف آرا کا ہونا جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم فیصلہ سازی میں قومی حالات اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔دوسری طرف وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے آئینی آپشنز کا ذکر سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا رہا ہے۔ ایسے اقدامات انتہائی غیر معمولی حالات کے لیے آئینی راستوں کے طور پر موجود ہو سکتے ہیں، مگر ان کا ذکر بھی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کی طرف سے گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں مزاحمت کے اعلانات بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ دونوں جانب سے ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کیا جائے جو سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھائیں۔تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کا استحکام محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ریاستی انتظام اور قومی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طویل عرصے سے بھاری قربانیاں دیتا آیا ہے۔ وہاں کے عوام، پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔ اس لیے صوبے کے سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے مسئلے سے الگ رکھتے ہوئے سکیورٹی کے معاملات پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان عملی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی سیاسی جماعت کی نہیں، پاکستان کی جنگ ہے اور اس میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ریاستی اداروں اور منتخب حکومتوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔یہاں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مثبت راستہ موجود ہے۔ اگر تحریک انصاف کو اپنے سیاسی اور آئینی مطالبات پیش کرنے ہیں تو وہ پارلیمنٹ، عدالتوں، مذاکرات اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے انہیں آگے بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ سیاسی اختلاف رکھنے والی جماعت کو سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ رابطے کے دروازے کھلے رکھے۔ کسی بھی فریق کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ سیاسی عمل کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اختلاف رکھنے والے فریق ایک دوسرے سے بات کریں، چاہے ان کے درمیان بنیادی معاملات پر شدید اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
پاکستان کے عوام بھی سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں۔ عام شہری کے لیے سب سے اہم چیز امن، روزگار، کاروبار، تعلیم، صحت اور معمول کی زندگی ہے۔ طویل احتجاج، سڑکوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور خوف کی فضا براہ راست عوام کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح سیاسی محاذ آرائی کے نتیجے میں ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھتا ہے اور حکومت کی توجہ عوامی مسائل سے ہٹ کر سیاسی بحران کے انتظام پر مرکوز ہو سکتی ہے۔ اس لیے سیاسی قیادت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے فیصلوں کا عام شہری پر کیا اثر پڑتا ہے۔اس وقت سب سے مثبت پیش رفت یہی ہو سکتی ہے کہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے قبل حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بامعنی رابطہ قائم ہو۔ وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن قیادت کو ملاقات کی دعوت، بیرسٹر گوہر کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے رابطے کی کوشش اور آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز جیسے اقدامات کو سیاسی رابطوں کے وسیع تر عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر، اپوزیشن قیادت، حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر سکتی ہیں جس میں اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جائے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مذاکرات کا مطلب کسی ایک فریق کی مکمل فتح یا دوسرے کی مکمل پسپائی نہیں ہوتا۔ جمہوری سیاست میں مذاکرات کا مقصد قابل قبول راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ بعض معاملات عدالتوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں، بعض پارلیمنٹ اور حکومت کے دائرے میں، جبکہ بعض سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان تمام معاملات کو الگ الگ آئینی اور قانونی فورمز پر لے جانے سے سیاسی تنازع کو غیر ضروری طور پر سڑکوں پر لانے سے بچا جا سکتا ہے۔قومی سلامتی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ اصول ضرور اختیار کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کی کوششوں کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے۔ دہشت گردوں کا کوئی سیاسی رنگ نہیں ہوتا اور ان کا نشانہ ریاست، سکیورٹی فورسز، پولیس اور عام شہری ہوتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف کم از کم بنیادی اتفاق رائے قائم کر لیں تو اس سے نہ صرف قومی یکجہتی مضبوط ہوگی بلکہ دشمن عناصر کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ پاکستان اپنے داخلی اختلافات کے باوجود قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہے۔موجودہ حالات میں ملک کو محاذ آرائی سے زیادہ سیاسی بصیرت، جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ مکالمے اور طاقت کے اظہار سے زیادہ آئینی راستے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ سیاسی کشیدگی کو ایک نئے بحران میں تبدیل ہونے سے روکیں۔ احتجاج اگر آئینی اور پرامن دائرے میں ہو تو جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے انتہائی حساس ماحول میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو بھی تحمل، نظم و ضبط اور قانون کی پابندی کی تلقین کرے۔آخرکار پاکستان کسی ایک حکومت، جماعت یا سیاسی رہنما کا نام نہیں۔ یہ کروڑوں شہریوں کا وطن ہے، جن کی سلامتی، خوشحالی اور مستقبل سیاسی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج اگر حکومت اور اپوزیشن اپنے اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہونے، آئینی حدود کی پاسداری کرنے اور سیاسی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے پر متفق ہو جائیں تو موجودہ بحران ایک نئے سیاسی راستے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ 4 اکتوبر کو کسی طاقت کے امتحان کے بجائے سیاسی تدبر کا دن بنایا جائے، اور اگر اختلافات موجود ہیں تو انہیں میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق قومی سلامتی کے موجودہ تقاضے سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کا نہیں بلکہ انہیں ایک ذمہ دار، آئینی اور پرامن طریقے سے منظم کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ حکومت کو بھی سیاسی رابطے بڑھانے چاہئیں اور اپوزیشن کو بھی ایسے راستے اختیار کرنے چاہئیں جن سے ریاستی اداروں، شہریوں اور قومی معیشت پر غیر ضروری دباؤ نہ بڑھے۔ پاکستان کی اصل طاقت سیاسی تقسیم میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود قومی مفاد کے بنیادی نکات پر اتفاق پیدا کیا جا سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مضبوط، جمہوری عمل کو مستحکم اور وفاق کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔