Dailyitlaeaam
Chief editor Umer

دشت جلب گوندان: چار سال گزرنے کے باوجود سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر شروع نہ ہوسکی، احتجاج کی دھمکی

ضلع مستونگ کے علاقے دشت جلب گوندان، کلی سمالانی کے 2022 کے سیلاب متاثرین نے طویل انتظار کے باوجود گھروں کی تعمیر نو شروع نہ ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت بلوچستان کے سروے اور تصدیقی عمل میں تاخیر پر متاثرین کے شدید تحفظات اور ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ۔

متاثرہ خاندانوں کے مطابق، سال 2022 کی تباہ کن طوفانی بارشوں اور سیلاب نے کلی سمالانی کی کچی آبادی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا اور بڑی تعداد میں غریب مکینوں کے مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے تھے۔ اس وقت حکومت بلوچستان کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا عمل تو شروع کیا گیا تھا، لیکن چار سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال کسی بھی متاثرہ خاندان کے گھر کی تعمیر کا عملی آغاز نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے یہ خاندان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

متاثرین نے متعلقہ سروے ٹیم کی سست رفتار کارکردگی پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سروے اور تصدیقی عمل کو فوری طور پر تیز کیا جائے، ضرورت پڑنے پر ناکام ٹیم کو تبدیل کیا جائے اور متاثرین کو گھروں کی تعمیر کے لیے فی الفور مالی معاونت فراہم کی جائے۔

کلی سمالانی کے دکھی عوام نے ڈپٹی کمشنر مستونگ اور اسسٹنٹ کمشنر دشت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کریں۔ متاثرین نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری اور عملی پیش رفت نہ کی گئی تو وہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More