پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں معاشی مشکلات، سیاسی بے یقینی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور عوامی مسائل نے مجموعی قومی مزاج پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع، توانائی کے مسائل اور حکمرانی سے متعلق شکایات نے عام شہری کے لیے زندگی کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ ضرور کیا ہے، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ایک حالیہ سروے میں ملک کی 52 فیصد آبادی کا طویل مدتی قومی سمت کے حوالے سے پْرامید ہونا ایک اہم اور حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ایک سروے کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے کے اس بنیادی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں جس میں مشکلات کے باوجود بہتر مستقبل کی خواہش زندہ ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی صرف اس کے معاشی وسائل، قدرتی دولت یا حکومتی پالیسیوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے عوام کا مستقبل پر اعتماد بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر نصف سے زیادہ شہری یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کا مستقبل بہتر ہوسکتا ہے تو اس امید کو قومی طاقت میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری ریاست، حکومت، اداروں، سیاسی جماعتوں، کاروباری طبقے اور معاشرے کے تمام طبقات پر عائد ہوتی ہے۔ امید اس وقت حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے جب اسے درست سمت، مسلسل محنت، شفاف پالیسیوں اور مؤثر ادارہ جاتی اقدامات کا سہارا حاصل ہو۔
پاکستان کے مسائل کا انکار نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ہی قومی مفاد میں۔ معاشی مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں، سیاسی اختلافات بھی قومی زندگی کا حصہ ہیں اور اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ملک کی تعمیر صرف مسائل گنوانے سے نہیں ہوتی۔ قومیں اپنے مسائل کو تسلیم کرکے ان کے حل کے لیے مستقل اور سنجیدہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 52 فیصد عوام کی امید اہمیت اختیار کرتی ہے۔ یہ امید بتاتی ہے کہ پاکستانی شہری مشکلات سے مایوس ہونے کے باوجود اپنے ملک سے لاتعلق نہیں ہوئے بلکہ وہ بہتری کے امکانات کو اب بھی موجود سمجھتے ہیں۔
مذکورہ سروے میں شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی، اداروں کی ساکھ، عوامی اعتماد اور حکومتی کارکردگی سمیت گورننس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان تمام شعبوں کا تعلق براہ راست ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد سے ہے۔ اگر کسی شہری کو یقین ہو کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہوگا، اس کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں گے، سرکاری ادارے جواب دہ ہوں گے اور قومی وسائل کا استعمال شفاف انداز میں کیا جائے گا تو اس کا ریاست پر اعتماد مضبوط ہوگا۔ اس کے برعکس جب قانون کے اطلاق میں امتیاز، احتساب میں غیر مساوی رویہ یا فیصلوں میں غیر شفافیت محسوس ہو تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
شفافیت اچھی حکمرانی کی بنیادی شرط ہے۔ قومی وسائل محدود ہوں تو ان کا درست استعمال مزید اہم ہوجاتا ہے۔ حکومت کے ترقیاتی منصوبے، سرکاری اخراجات، ٹیکسوں کا استعمال، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوامی منصوبوں کی نگرانی ایسے شعبے ہیں جن میں شفافیت نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کو کم کرسکتی ہے بلکہ شہریوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ آج کا شہری پہلے کی نسبت زیادہ باخبر ہے۔ وہ سرکاری فیصلوں کے بارے میں سوال کرتا ہے، اعداد و شمار دیکھتا ہے اور حکومتی کارکردگی کا تقابل دوسرے ممالک اور معاشروں سے کرتا ہے۔ اس لیے جدید ریاست میں معلومات چھپانے کے بجائے عوام کو اعتماد میں لینا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کی کرپشن پرسیپشن کی صورتحال بھی اس ضرورت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ 2025ء کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا۔ یہ درجہ بندی یقیناً تشویش کا باعث ہے، لیکن اسے محض مایوسی کی علامت سمجھنے کے بجائے اصلاحات کے لیے ایک آئینہ تصور کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے اشاریے یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان شفافیت، نگرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور مؤثر احتساب کے شعبوں میں مستقل پیش رفت کرے تو وقت کے ساتھ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی بہتر ہوسکتی ہے۔
احتساب کسی بھی جمہوری اور آئینی نظام کا اہم ستون ہے، مگر احتساب کی اصل روح اس کی غیر جانب داری اور مؤثر عمل درآمد میں ہے۔ اگر قوانین موجود ہوں لیکن ان پر یکساں طور پر عمل نہ ہو تو قانون کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب کو سیاسی کشمکش یا انتقامی کارروائی کے تاثر سے نکال کر ایک مضبوط، غیر جانب دار اور ادارہ جاتی عمل بنایا جائے۔ احتساب کا مقصد صرف کسی فرد کو سزا دینا نہیں بلکہ پورے نظام میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ قومی وسائل کے غلط استعمال، اختیارات سے تجاوز اور بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پاکستان کے لیے سب سے اہم ضرورت ایسے ادارہ جاتی نظام کی تشکیل ہے جس میں حکومتیں بدلنے کے باوجود پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ سیاسی حکومتیں جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہیں اور ان کا آنا جانا معمول کی بات ہے، لیکن ریاستی اداروں کی کارکردگی اور قومی ترقی کے بنیادی اہداف سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ معیشت، تعلیم، صحت، توانائی، برآمدات، صنعت، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبوں میں طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر حکومت سابقہ پالیسیوں کو ختم کرکے نئے سرے سے آغاز کرے تو قومی وسائل اور وقت دونوں ضائع ہوتے ہیں۔
پاکستان کی نوجوان آبادی اس حوالے سے سب سے بڑا قومی سرمایہ ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم، ہنر، کاروبار، ٹیکنالوجی اور عالمی معیشت میں اپنی جگہ بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ نسل صرف ملازمت کی تلاش میں نہیں بلکہ کاروباری مواقع، ڈیجیٹل معیشت، آزادانہ کام اور جدید مہارتوں کے ذریعے اپنی زندگی بہتر بنانے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔ اگر ریاست نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، آسان کاروباری ماحول اور میرٹ پر مواقع فراہم کرے تو یہی نوجوان پاکستان کی معاشی تبدیلی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
روزگار کے مسئلے کا حل بھی صرف سرکاری ملازمتوں میں نہیں۔ پاکستان کو ایسی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جو نجی شعبے، صنعت، برآمدات، چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دے۔ کاروباری طبقے کو واضح قوانین، پالیسیوں کا تسلسل، آسان ٹیکس نظام اور غیر ضروری دفتری رکاوٹوں سے نجات ملے تو سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ملکی معیشت میں نئی سرمایہ کاری صرف دولت پیدا نہیں کرتی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک مضبوط بنیادوں پر ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کے شہری تعلیم یافتہ، ہنرمند اور صحت مند نہ ہوں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ تعلیم کے معیار، اساتذہ کی تربیت اور جدید نصاب پر توجہ دی جائے۔ صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت کو فعال، ادویات کی دستیابی کو یقینی اور عام شہری کے لیے علاج کو قابل رسائی بنانا ہوگا۔
قانون کی حکمرانی بھی قومی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ سرمایہ کار اس ملک میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دیتا ہے جہاں قانون واضح ہو، معاہدوں کا احترام ہو اور انصاف بروقت ملے۔ عام شہری بھی اسی وقت ریاست پر اعتماد کرتا ہے جب اسے یقین ہو کہ قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہے۔ اس لیے عدالتی اور انتظامی اصلاحات کا مقصد صرف اداروں کی اندرونی کارکردگی بہتر بنانا نہیں بلکہ عام شہری کے لیے انصاف اور سہولت کو یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔
حکومتی کارکردگی کے حوالے سے بھی بنیادی پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ عام آدمی کی زندگی میں کتنی بہتری آئی۔ سڑکیں، عمارتیں اور بڑے منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن شہری کے لیے اصل ترقی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب اسے بہتر تعلیم، معیاری علاج، روزگار، محفوظ ماحول، مناسب سفری سہولیات، صاف پانی اور مؤثر شہری خدمات میسر ہوں۔ حکومتوں کو اپنی کامیابی کا اندازہ صرف منصوبوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے عوامی اثرات سے کرنا چاہیے۔
پاکستان کی معاشی مشکلات کے باوجود یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ملک کے پاس بے شمار امکانات موجود ہیں۔ جغرافیائی محل وقوع، نوجوان افرادی قوت، زرعی صلاحیت، معدنی وسائل، آئی ٹی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی صلاحیتیں ایسے وسائل ہیں جنہیں بہتر پالیسیوں کے ذریعے قومی ترقی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پالیسی سازی وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل مدتی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کی جائے۔
عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت اور شہریوں کے درمیان رابطہ بھی بہتر بنانا ہوگا۔ حکومتوں کو عوام کو صرف انتخابی یا سیاسی مواقع پر یاد کرنے کے بجائے مسلسل رابطے کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ شہریوں کی شکایات سننا، ان کے مسائل کے حل کی نگرانی کرنا اور حکومتی فیصلوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا ریاستی اعتماد کو مضبوط کرسکتا ہے۔ اسی طرح میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور ماہرین کو بھی تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ تنقید جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن تنقید کے ساتھ قابل عمل تجاویز بھی پیش کی جائیں تو قومی مباحث زیادہ مفید ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ مایوسی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ امید ہے۔ ایسی امید جو مسائل کو نظر انداز نہ کرے بلکہ ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ 52 فیصد شہریوں کا مستقبل کے بارے میں پْرامید ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی معاشرہ ابھی بھی اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے۔ اس اعتماد کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، سیاسی قوتیں قومی مسائل پر کم از کم بنیادی نکات پر اتفاق پیدا کریں اور معاشرہ قانون، میرٹ اور ذمہ داری کے اصولوں کو مضبوط کرے۔
پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوم نے مشکل ترین حالات میں بھی خود کو سنبھالا ہے۔ قدرتی آفات، معاشی بحران، سلامتی کے چیلنجز اور سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی عوام نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں ثابت کی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے بھی بحرانوں سے نکل کر ترقی کی ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ انہوں نے اداروں کو مضبوط کیا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا، تعلیم اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی اور طویل مدتی قومی اہداف کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا۔
لہٰذا پاکستان کے بہتر مستقبل کی امید کو محض ایک مثبت سروے کے نتیجے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے قومی عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ شفافیت کو حکومتی نظام کا لازمی حصہ، احتساب کو غیر جانب دار ادارہ جاتی عمل، قانون کی حکمرانی کو ریاستی ترجیح، نوجوانوں کو قومی سرمایہ اور عوامی اعتماد کو حکمرانی کا بنیادی پیمانہ بنانا ہوگا۔
قومیں صرف امید سے ترقی نہیں کرتیں، لیکن امید کے بغیر بھی ترقی کا سفر شروع نہیں ہوسکتا۔ آج پاکستان کے عوام کے ایک بڑے حصے کا مستقبل کے بارے میں پْرامید ہونا ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے۔ اس امید کو عملی کامیابی میں تبدیل کرنا حکمرانوں، اداروں اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر شفافیت، میرٹ، قانون کی یکساں حکمرانی، مؤثر احتساب اور بہتر حکمرانی کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تو پاکستان نہ صرف موجودہ مشکلات سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ اصل کامیابی یہی ہوگی کہ آج کی امید آنے والی نسلوں کے لیے حقیقی مواقع، بہتر زندگی اور مضبوط پاکستان کی صورت اختیار کرلے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٧
Next Post
شاید آپ یہ بھی پسند کریں